5 مارچ 2001 کو تیرہواں حادثہ رمی کے دوران ہوا،اس حادثہ میں بھی 35 حاجی شہید ہوگئے تھے۔

11 فروری 2003 کو ایک مرتبہ پھر رمی کے دوران حادثہ ہوا،جو حج کے موقع پر ہونے والا چودہویں حادثہ تھا، اس حادثہ میں بھی  14 حاجی شہید ہو گئے تھے۔

یکم فروری 2004 میں منیٰ میں رمی کے دوران ایک مرتبہ پھر بھگدڑ  ہوگئی،اس بھگڈر میں 251 حاجی شہید اور 244 زخمی ہوئے،یہ حج کے دوران پیش ہونے والا پندرہواں حادثہ تھا۔

سن 2006 میں 5 جنوری کو سولہویں حادثہ میں مکہ میں مسجد الحرام کا الغزہ ہوٹل زمین بوس ہوا،اس حادثہ میں 76 حاجی شہید اور 64 زخمی ہوئے

12 جنوری 2006 کو رمی کے دوران پھر بھگڈر ہوگئی، اس بھگڈر میں 346 افراد شہید ہوئے اور 289 زخمی ہوئے۔یہ حج کے موقع پر رونما ہونے والا سترہواں حادثہ تھا۔

حج کے موقع پر آٹھارہواں واقعی یکم نومبر 2011 پیش ایا، اس حادثہ میں دو میاں ہیوی کوچ میں لگنے والی آگ سے جاں بحق ہوئے

انیسواں حادثہ 24 ستمبر 2015ء کو بھگدڑ مچنے سے پیش آیا،اس حادثہ میں 700 سے زائد حجاج شہید، جبکہ 800 کے قریب زخمی ہوئے۔

آخری مرتبہ بیسواں واقعی  2015 میں11 ستمبر کو ایا، مکہ کی توسیع کے دوران تیز ہوا سے کرین مسجد الحرام کی چھت اور احاطے میں گر گئی جس سے 107 حاجی شہید ہوئے